کیوبا کے سابق سیاسی قیدی لوئس مینوئل اوٹیرو الکانتارا، جو اپنے قید کرنے والوں کے ساتھ وہسکی پینے کے بعد رہا ہوئے تھے، اب میامی پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ کیوبا سے لائی گئی 4,000 پینٹنگز کو کھول رہے ہیں، لیکن انہیں اپنے ہی ہم وطن جلاوطنوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جنہوں نے کبھی ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔ ان کی آمد نے میامی میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
الکانتارا کی رہائی کے حالات، خاص طور پر قید کرنے والوں کے ساتھ وہسکی پینے کی خبر، کیوبا کے جلاوطن حلقوں میں تشویش کا باعث بنی ہے۔ میامی میں موجود کیوبا کے دیگر منحرفین اور انسانی حقوق کے کارکنان ان کے اس عمل کو ایک سمجھوتے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس نے ان کی جدوجہد کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب انہیں کیوبا میں آزادی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور جلاوطن کمیونٹی نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی تھی، لیکن اب وہی لوگ ان پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
میامی میں قدم رکھتے ہی، الکانتارا کو ایک ایسے طوفان کا سامنا ہے جہاں انہیں اپنے ماضی کے حامیوں کے غصے اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی 4,000 پینٹنگز، جو ان کے فنکارانہ اظہار کا حصہ ہیں، اب اس سیاسی ہنگامے کے بیچ میں ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف الکانتارا کے لیے ایک ذاتی چیلنج ہے بلکہ کیوبا کی جلاوطن کمیونٹی کے اندرونی اختلافات اور ان کی جدوجہد کی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔


