لیبیا کے ایک شہری کے خلاف لاکربی بم دھماکے کے مقدمے کی سماعت کو تیسری بار ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ مقدمے کے آغاز سے محض چند روز قبل سامنے آیا ہے، جب 37 سال پرانے اس کیس سے متعلق نئے شواہد منظر عام پر آئے۔
یہ مقدمہ 1988 میں ہونے والے لاکربی بم دھماکے سے جڑا ہے، جس میں 270 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت میں یہ تیسری تاخیر ہے، جو اس کیس کی پیچیدگی اور حساسیت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ نئے شواہد کی نوعیت کے بارے میں فی الحال تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، تاہم ان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے عدالت نے سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس تازہ تاخیر سے جہاں متاثرین کے خاندانوں میں بے چینی بڑھنے کا امکان ہے، وہیں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے شواہد کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ عدالت کی جانب سے مقدمے کی نئی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ نئے شواہد کیس پر کس حد تک اثر انداز ہوں گے۔




