لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔ عالمی فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والی تنظیم ‘آئی کیو ائیر’ (IQAir) کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 347 ریکارڈ کیا گیا، جو کہ صحت کے لیے انتہائی مضر سطح ہے۔ یہ صورتحال شہر میں فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے جو شہریوں کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
آئی کیو ائیر کی عالمی درجہ بندی میں بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی 243 اے کیو آئی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ یہ اعداد و شمار جنوبی ایشیا کے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے چیلنج کو نمایاں کرتے ہیں، جہاں صنعتی سرگرمیاں، ٹریفک کا دھواں، اور فصلوں کو جلانے جیسے عوامل فضائی معیار کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
فضائی آلودگی کی یہ خطرناک سطحیں لاہور کے باسیوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں، جن میں سانس کی بیماریاں، دل کے امراض، آنکھوں میں جلن اور گلے کی خراش جیسے مسائل عام ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری قابو نہ پایا گیا تو طویل مدتی صحت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر پالیسیاں وضع کرے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ شہریوں کو صاف ستھری فضا میں سانس لینے کا حق مل سکے۔





