مالاوی میں مویشی پالنے والے کسانوں کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنے مویشیوں کو زندہ رکھنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پڑ رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے رجحان ‘ایل نینو’ نے اس صورتحال کو مزید بدتر بنا دیا ہے، جس سے کئی خاندانوں کے لیے اپنے مویشیوں کو بچانا ایک مہنگا اور مشکل کام بن گیا ہے۔
خشک سالی کے باعث چراگاہیں خشک ہو چکی ہیں اور پانی کے ذرائع تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ کسانوں کو اپنے ریوڑ کو پانی اور چارے کی تلاش میں دور دراز علاقوں تک لے جانا پڑتا ہے، جس میں وقت، محنت اور مالی وسائل کا بے پناہ ضیاع ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف مویشیوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کے مرنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جو ان کسانوں کی واحد آمدنی کا ذریعہ ہیں۔
مالاوی کی معیشت کا ایک بڑا حصہ زراعت اور مویشی پروری پر منحصر ہے۔ موجودہ بحران سے ملک کی غذائی تحفظ کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور دیہی علاقوں میں غربت میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے کسانوں کے لیے چیلنجز مزید بڑھ جائیں گے۔ حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ہنگامی امداد کی ضرورت ہے تاکہ ان متاثرہ خاندانوں کو اس مشکل وقت سے نکالا جا سکے۔





