مانسہرہ کے علاقے بالاکوٹ میں 21 سال قبل آنے والے تباہ کن زلزلے کے ملبے سے ایک بچے کی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جس نے علاقے میں غم اور حیرت کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ اس قدرتی آفت کے دیرپا اثرات اور انسانی المیے کی ایک نئی یاد دہانی ہے۔
یہ واقعہ 8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے کی یاد دلاتا ہے، جس نے شمالی پاکستان اور آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ بالاکوٹ، جو اس زلزلے کا مرکز تھا، مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا اور ہزاروں افراد جاں بحق یا لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس زلزلے نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا تھا اور اس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق، یہ باقیات ایک تعمیراتی منصوبے کے دوران ملبے کی کھدائی کرتے وقت دریافت ہوئیں۔ حکام نے باقیات کو تحویل میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ان کی شناخت کی جا سکے اور ممکنہ طور پر ورثاء تک پہنچا جا سکے۔ اس دریافت نے ان خاندانوں کی امیدوں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے جو آج بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔
اس طویل عرصے بعد کسی بچے کی باقیات کی برآمدگی نہ صرف ایک دردناک یاد دہانی ہے بلکہ قدرتی آفات کے دیرپا اثرات کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ یہ واقعہ متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہے، جو آج بھی اس سانحے کے زخموں کو محسوس کرتے ہیں۔


