چینی محققین نے اواخر ٹرائیسک دور کے فوسلز میں ایک اہم سائنسی دریافت کی ہے، جہاں انہیں 237 ملین سال پرانے ایک مکمل سمندری اسٹیم ایمفیبین ‘گیروتھوریکس’ (Gerrothorax) کے باقیات ملے ہیں۔ یہ دریافت سائنسدانوں کو قدیم سمندری حیات اور ایمفیبینز کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مکمل سمندری دوپایہ جانور ہے جو اب تک دریافت ہوا ہے، جو اس دور کے ماحولیاتی نظام کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
محققین نے ان فوسلز کی مدد سے ‘گیروتھوریکس’ نامی اس قدیم جانور کی دوبارہ تشکیل کی ہے۔ یہ جانور بکتر بند اور چپٹے جسم والا تھا، جو اسے سمندری ماحول میں رہنے کے لیے موزوں بناتا تھا۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہلا مکمل سمندری اسٹیم ایمفیبین ہے جو اب تک دریافت ہوا ہے۔ اسٹیم ایمفیبینز ایسے قدیم دوپایہ جانور تھے جو جدید ایمفیبینز کے ارتقائی درخت کی جڑ کے قریب تھے، اور ان کا سمندر میں پایا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔
یہ دریافت اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ ٹرائیسک دور میں سمندری ماحولیاتی نظام کتنا متنوع تھا اور کس طرح مختلف انواع نے سمندر میں زندگی گزارنے کے لیے خود کو ڈھالا۔ ‘گیروتھوریکس’ کا سمندری طرز زندگی ایمفیبینز کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کو وسعت دیتا ہے، جو عام طور پر خشکی یا میٹھے پانی سے وابستہ ہیں۔ یہ تحقیق قدیم حیات کے مطالعے میں ایک نیا باب کھولتی ہے اور مستقبل میں مزید ایسی دریافتوں کی راہ ہموار کرتی ہے۔





