عالمی مالیاتی منڈیوں میں تازہ ترین صورتحال کے مطابق، امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی نئی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی عدم استحکام بڑھتا ہے تو سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں رہتے ہیں، اور امریکی ڈالر روایتی طور پر ایک ایسی ہی محفوظ کرنسی سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حملوں کی تجدید اور دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز، کی بندش کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے اندیشوں کو بھی جنم دیا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید خلل پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کو مزید محتاط کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے اثاثوں کو ڈالر میں منتقل کر رہے ہیں، جس سے اس کی قدر میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ میں صورتحال مستحکم نہیں ہوتی، ڈالر کی مضبوطی برقرار رہ سکتی ہے۔



