رواں سیزن میں پاکستان کی آم کی برآمدات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دیرپا اقتصادی اور لاجسٹک اثرات ہیں۔ پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ آم کی ایک بڑی اور اہم منڈی رہا ہے، جہاں ہر سال لاکھوں ٹن آم برآمد کیے جاتے ہیں۔ تاہم، موجودہ صورتحال نے اس اہم زرعی مصنوعات کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات نے خطے کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں درآمدی ممالک کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، جنگی صورتحال نے شپنگ لاگت میں بھی اضافہ کر دیا ہے اور سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جو پاکستانی آم کے بڑے خریدار تھے، وہاں سے طلب میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے برآمدی اہداف کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
آم کی برآمدات میں یہ کمی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک دھچکا ہے، کیونکہ آم ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے والی اہم زرعی اجناس میں سے ایک ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف برآمد کنندگان بلکہ آم کے کاشتکار بھی متاثر ہو رہے ہیں، جنہیں اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ حکومت اور برآمدی اداروں کو نئے متبادل منڈیوں کی تلاش اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس اہم زرعی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور مستقبل میں برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
