مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابض فورسز نے ایک تازہ کارروائی کے دوران 8 فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں کی گئیں، جن میں خاص طور پر ہیبرون (الخلیل) شہر نمایاں رہا۔ اسرائیلی فوجیوں نے علی الصبح ہیبرون میں فلسطینی شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے ہیبرون کے علاوہ بیت لحم اور رام اللہ کے کچھ علاقوں میں بھی کارروائیاں کیں۔ ان چھاپوں کے دوران گھروں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور مکینوں کو ہراساں کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ گرفتاریاں “مطلوب افراد” کی تلاش اور “دہشت گردی کی سرگرمیوں” میں ملوث مشتبہ افراد کو پکڑنے کے لیے کی گئی ہیں۔ تاہم، فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کارروائیوں کو اجتماعی سزا اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ ایک معمول بن چکا ہے۔ یہ کارروائیاں اکثر رات کے وقت یا علی الصبح کی جاتی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے بارہا ان چھاپوں اور گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ واقعات خطے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔





