اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک نئی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے کئی دنوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس کارروائی میں وسیع پیمانے پر چھاپے اور عمارتوں کی مسماری شامل ہے، جس سے علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اس آپریشن کے حوالے سے ایک انتہائی سخت بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے ارادوں کی شدت کو واضح کیا ہے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ “ہم اس جگہ کو تباہ کر دیں گے،” جو کہ اس فوجی مہم کے اہداف اور اس کے ممکنہ نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی عروج پر ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ آپریشن سکیورٹی خدشات کو دور کرنے اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
تاہم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی برادری اکثر مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان چھاپوں اور مسماریوں کے نتیجے میں مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ علاقائی عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کئی روزہ کارروائی کس طرح کے نتائج لے کر آتی ہے اور اس کے مقبوضہ مغربی کنارے کے امن و امان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
