ملائیشیا کے بورنیو علاقے میں حکام انڈونیشیا سے آنے والے جنگل کی آگ کے دھویں اور فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ دھواں پڑوسی ملک انڈونیشیا میں لگی جنگل کی آگ کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے اور ملائیشیا کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، جس سے فضائی معیار بری طرح متاثر ہوا ہے اور شہریوں کو سانس لینے میں دشواری سمیت صحت کے دیگر مسائل کا سامنا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، مقامی حکام نے بادلوں کی بیجائی (Cloud Seeding) کا طریقہ کار اپنایا ہے۔ اس عمل میں خصوصی ہوائی جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے فضا میں نمک اور پانی کے مرکب کو چھڑکا جاتا ہے تاکہ مصنوعی بارش پیدا کی جا سکے اور فضا میں موجود دھویں اور آلودگی کو کم کیا جا سکے۔ یہ تکنیک فضائی آلودگی کو کم کرنے، مرئیت کو بہتر بنانے اور ماحول کو صاف کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بادلوں کی بیجائی کا یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ فضائی معیار میں نمایاں بہتری نہیں آ جاتی اور دھویں کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ ان کوششوں کا مقصد شہریوں کو صحت کے ممکنہ خطرات سے بچانا اور معمولات زندگی کو بحال کرنا ہے۔ انڈونیشیا میں جنگل کی آگ پر قابو پانے کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر کوششیں جاری ہیں تاکہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ کو ختم کیا جا سکے۔

