ملک بھر میں مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 2 جولائی سے 22 اکتوبر کے دوران 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اوسطاً 5.81 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے نے پہلے سے ہی معاشی مشکلات کا شکار عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے ان کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے اور بنیادی ضروریات کی تکمیل مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔
اس مہنگائی کا براہ راست اثر روزمرہ کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔ بنیادی غذائی اجناس، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی، عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل اس صورتحال کو مزید گھمبیر بنا رہا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
عوام میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو معاشی عدم استحکام مزید بڑھے گا اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف قیمتوں کو کنٹرول کرے بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے بھی پالیسیاں وضع کرے، تاکہ عوام کو پائیدار ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



