لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی اصول قائم کرتے ہوئے منجمد بینک اکاؤنٹ سے چیک جاری کرنے کو دھوکہ دہی قرار دیا ہے اور ایسے شخص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ منجمد اکاؤنٹ سے چیک جاری کرنا فراڈ کے مترادف ہے۔
جسٹس سید فرہاد علی شاہ نے سیشن عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ایک شخص کے خلاف منجمد اکاؤنٹ سے چیک جاری کرنے پر مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
اس فیصلے کے بعد اب یہ قانونی طور پر واضح ہو گیا ہے کہ کسی بھی منجمد بینک اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا چیک دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا اور ایسے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ یہ فیصلہ بینکنگ اور مالیاتی لین دین میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گا اور ایسے افراد کو روکنے میں معاون ثابت ہو گا جو منجمد اکاؤنٹس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔



