بھارتی وزیراعظم نریندر مودی دیگر اہم مسائل سے نمٹنے میں مصروف تھے کہ اچانک طلبہ کی ایک وسیع تحریک پھوٹ پڑی۔ یہ تحریک بھارت میں بڑھتی ہوئی اقتصادی ناکامیوں اور نوجوانوں میں پائے جانے والے شدید عدم اطمینان کا نتیجہ ہے، جس نے مودی حکومت کو ایک غیر متوقع چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔
بھارت میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور معاشی عدم استحکام جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل نے طلبہ اور نوجوانوں میں شدید مایوسی اور غصہ پیدا کیا ہے، جو اب سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ان مسائل کے حل میں بظاہر ناکامی نے اس تحریک کو مزید ہوا دی ہے اور نوجوانوں کا صبر جواب دے گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے چھپے مسائل کا کوئی آسان حل نہیں ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے گہرے اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ یہ صورتحال وزیراعظم مودی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، کیونکہ یہ ان کی معاشی پالیسیوں اور نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔





