سابق وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے حال ہی میں ایک بیان میں زور دیا ہے کہ مکہ معاہدے میں ایران کی شمولیت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ سربراہانِ مملکت کے درمیان نہیں ہوا بلکہ یہ ایک وسیع تر علاقائی مفاہمت کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں تمام اہم فریقین کو شامل ہونا چاہیے۔
قصوری نے وضاحت کی کہ مکہ معاہدہ، جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کا ایک اہم قدم ہے، تبھی اپنی مکمل افادیت حاصل کر سکتا ہے جب اس میں ایران کو بھی ایک فعال فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ایران کا کردار کلیدی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو نظر انداز کرنا کسی بھی علاقائی امن کوشش کو کمزور کر سکتا ہے۔
سابق وزیرِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے اور اس سلسلے میں تمام علاقائی طاقتوں کے درمیان مکالمہ اور تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکہ معاہدہ ایک ایسے وسیع تر علاقائی فریم ورک کی بنیاد بن سکتا ہے جہاں تمام ممالک، بشمول ایران، اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کر سکیں اور مشترکہ ترقی کی راہ ہموار کر سکیں۔



