معروف فیشن برانڈ مینگو (Mango) کے بانی آئزک ایندک کی 2024 میں ایک مہلک گراوٹ کے نتیجے میں ہونے والی موت کے سلسلے میں ان کے بیٹے جوناتھن ایندک کو مشتبہ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے کیس میں سامنے آئی ہے جس نے بین الاقوامی فیشن انڈسٹری میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، آئزک ایندک کی موت 2024 کے اوائل میں ہوئی تھی، اور ابتدائی طور پر اسے ایک حادثہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، تازہ ترین پیشرفت میں تفتیشی اداروں نے اس معاملے کی چھان بین کرتے ہوئے جوناتھن ایندک کا نام مشتبہ افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ حکام اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے۔
اس سنگین الزام کے بعد مینگو خاندان اور فیشن کی دنیا میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ پولیس اور پراسیکیوٹرز اس کیس کی حساسیت کے پیش نظر انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ مزید تفصیلات تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گی۔





