سابق مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر محمد علی سیف نے ملک میں نظام کی ناکامی سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے نظام کو بچایا جا سکتا ہے تو اس پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور حکومتی کارکردگی کے مسائل نے عوام میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق، چھوٹے انتظامی یونٹس (نئے صوبے) نہ صرف بہتر حکمرانی کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی ترقی کو بھی فروغ دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بڑے صوبے اکثر انتظامی چیلنجز کا شکار رہتے ہیں، جس سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور فوری طور پر ایسے اقدامات اٹھائے جو ملک کو درپیش چیلنجز سے نکال سکیں۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ محض بیانات دینے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نظام کو مزید زوال سے بچایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی و معاشی صورتحال پر گرما گرم بحث جاری ہے۔





