جیفری شملز، ایک ممتاز امریکی صحافی، اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک ایسے موڑ پر پہنچے جہاں انہیں ایڈز کی تشخیص ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایڈز کے بارے میں معلومات محدود تھیں اور اس سے جڑے سماجی تعصبات عروج پر تھے۔ اس ذاتی آزمائش نے انہیں ایک منفرد فیصلہ کرنے پر مجبور کیا: وہ اپنے مرض کو ہی اپنی صحافتی بیٹ بنانا چاہتے تھے، یعنی ایڈز کے موضوع پر گہرائی سے رپورٹنگ کرنا چاہتے تھے۔
شملز نے اپنی تحریروں میں بے باکی اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کھل کر لکھا کہ کس طرح سیاسی اور طبی حلقوں کی جانب سے بروقت امداد اور توجہ ان تک نہیں پہنچ پائے گی۔ ان کی تحریریں صرف ان کی ذاتی کہانی نہیں تھیں بلکہ ایڈز کے شکار ہزاروں افراد کے لیے ایک آواز تھیں جو حکومتی اور طبی نظام کی سست روی اور بے حسی کا شکار تھے۔
جیفری شملز نے اپنی بیماری کو ایک صحافتی مشن میں بدل کر نہ صرف ایڈز کے بارے میں عوامی شعور بیدار کیا بلکہ اس مرض سے جڑے سماجی داغ کو بھی چیلنج کیا۔ ان کی بے لاگ رپورٹنگ نے اس وقت کے حکومتی اور طبی اداروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس عالمی وبا کو زیادہ سنجیدگی سے لیں۔ ان کی میراث آج بھی صحافت میں ذاتی تجربات کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کرنے کی ایک روشن مثال ہے۔




