سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے لندن میں اپنے حامیوں سے ملاقات کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت بہت پہلے ہی نافذ کر دینی چاہیے تھی تاکہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال تیزی سے تشویشناک ہوتی جا رہی تھی اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق، سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ ایک ضروری قدم تھا جسے بروقت نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کیا کہ ان کی غفلت اور نااہلی کے باعث صوبے میں شدت پسندی کو پنپنے کا موقع ملا۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد نے مزید کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو آج صوبے کو درپیش سنگین سیکیورٹی مسائل سے بچا جا سکتا تھا۔ نواز شریف کے اس بیان کو ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سیکیورٹی اور گورننس کے مسائل ایک اہم انتخابی موضوع بن سکتے ہیں۔


