سپریم کورٹ آف پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب) ترامیم کے بعد اپیلوں کی آئینی عدالتوں میں منتقلی کے معاملے پر کل اہم سماعت مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ اس اہم کیس کی سماعت کرے گا، جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ نیب قوانین میں حالیہ ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں کس فورم پر سنی جائیں گی۔ یہ معاملہ قانونی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ اس کا براہ راست اثر ملک میں احتساب کے عمل پر پڑے گا۔
حکومت کی جانب سے نیب قوانین میں کی گئی ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دائرہ اختیار پر ابہام پیدا ہو گیا تھا۔ پہلے یہ اپیلیں ہائی کورٹس میں سنی جاتی تھیں، تاہم نئی ترامیم نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے، جس کے بعد یہ سوال اٹھا ہے کہ آیا یہ اپیلیں اب بھی ہائی کورٹس میں ہی دائر کی جائیں گی یا ان کی سماعت کے لیے کوئی نیا آئینی فورم مقرر کیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس حوالے سے ایک واضح سمت فراہم کرے گا اور مستقبل میں احتساب کے مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کو متعین کرے گا۔
اس کیس کی سماعت کا مقصد قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنا اور اپیلوں کی سماعت کے لیے ایک واضح اور مستقل طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ عدالتی فیصلہ نہ صرف نیب کے دائرہ اختیار کو واضح کرے گا بلکہ احتساب کے عمل میں شفافیت اور تیزی لانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک بھر کی نظریں اس اہم سماعت پر مرکوز ہیں، جس کے نتائج سے احتساب کے نظام میں ایک نئی جہت کھلنے کی توقع ہے۔



