کراچی: پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے والیکا ہسپتال میں علاج کے بعد ایک تین سالہ بچی میں ایچ آئی وی (HIV) مثبت پایا گیا ہے، جس نے طبی حلقوں اور عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ ہسپتالوں میں طبی طریقہ کار اور حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، بچی کو کسی اور بیماری کے علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا، اور علاج کے دوران ہی اس میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس عمر کی بچی میں ایچ آئی وی کی موجودگی عموماً آلودہ خون کی منتقلی، غیر جراثیم سے پاک طبی آلات کے استعمال، یا کسی اور طبی غفلت کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ اس واقعے نے والدین میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اور وہ اپنے بچوں کے علاج کے حوالے سے مزید محتاط ہو گئے ہیں۔
اس سنگین معاملے پر فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ والیکا ہسپتال میں ہونے والے علاج کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں اور ذمہ داران کا تعین کریں۔ ایسے واقعات نہ صرف مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ نظام صحت پر عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت حفاظتی پروٹوکولز اور معیاری طبی سہولیات کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔





