بچپن سے ہی ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین سے کچھ مختلف نظر آئے، اپنی ایک منفرد پہچان بنائے۔ خاص طور پر لڑکے اپنی جوانی میں اپنے والد کے انداز، ان کی عادات اور حتیٰ کہ ان کی جسمانی ساخت سے بھی خود کو الگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی امر ہے جہاں ہر فرد اپنی انفرادیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے۔
تاہم، زندگی کی ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی بار ہم انہی خصوصیات کو اپنی ذات میں پاتے ہیں جن سے بچنے کی ہم نے ساری عمر کوشش کی ہوتی ہے۔ بالوں کا گرنا یا گنج پن ایک ایسی ہی موروثی حقیقت ہے جو اکثر مردوں کو اپنے والد سے وراثت میں ملتی ہے۔ ایک صبح جب آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور اچانک آپ کو اپنی پیشانی میں اپنے والد کی جھلک نظر آتی ہے، تو یہ احساس ہوتا ہے کہ وقت نے کس طرح ایک دائرہ مکمل کر لیا ہے۔
یہ لمحہ جہاں ایک طرف حیرت انگیز ہو سکتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ زندگی کی حقیقتوں کو قبول کرنے کا ایک سبق بھی دیتا ہے۔ چاہے وہ بالوں کا گرنا ہو یا کوئی اور موروثی خصوصیت، یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کا حصہ ہیں اور ان کی وراثت ہمارے اندر زندہ ہے۔ اس حقیقت کو مزاحیہ انداز میں قبول کرنا ہی شاید اس ستم ظریفی کا بہترین جواب ہے۔




