اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے محسن نقوی کے نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق ریمارکس کو ‘بے معنی’ قرار دیتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا عمل آئین میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے پارلیمنٹ میں جامع بحث ضروری ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئین نئے صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہے اور اس عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی انتظامی اصلاحات یا نئے یونٹس کے قیام سے قبل پارلیمنٹ کو اس معاملے پر جامع بحث کرنی چاہیے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے شامل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس کے لیے قومی اتفاق رائے اور آئینی تقاضوں کی تکمیل ناگزیر ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ محسن نقوی کے ریمارکس ان کی ذاتی رائے کی عکاسی کرتے ہیں اور ان کا کوئی آئینی یا قانونی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اہم معاملات پر غیر سنجیدہ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو ملک کے انتظامی ڈھانچے پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں انتظامی اصلاحات کے لیے ایک منظم اور آئینی طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے، نہ کہ کسی فرد واحد کے بیانات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیا جائے۔






