اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے وفاقی آئینی عدالت (FCC) کو تمام آئینی معاملات کی سماعت کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات 21 دسمبر 2024 کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے آئینی اصلاحات اور ملکی قانونی ڈھانچے پر روشنی ڈالی۔
بیرسٹر عقیل ملک نے اپنی تقریر میں اس ترمیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی ترمیم ملک میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور آئینی معاملات کو ایک مخصوص فورم پر سننے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل آئینی مقدمات کی سماعت کے حوالے سے دائرہ اختیار میں کچھ ابہام پایا جاتا تھا، جسے اب 27ویں ترمیم کے ذریعے مکمل طور پر واضح کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے آئینی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں وسعت آئے گی اور وہ آئین کی تشریح اور نفاذ سے متعلق ہر قسم کے معاملات کو سن سکیں گی۔
وزیر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی آئینی عدالت کو یہ اختیارات ملنے سے آئینی انصاف کی فراہمی میں تیزی آئے گی اور عوام کو اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم میسر آئے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ترمیم عدالتی نظام میں مزید استحکام لائے گی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔ اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے اور اسے ملک کے عدالتی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔



