عالمی ادارے برائے فضائی معیار (IQAir) نے وسطی پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت وسیع علاقے میں فضائی معیار کو انتہائی مضر صحت قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان شہروں کی فضا میں آلودگی کی سطح عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقرر کردہ محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ ہے، جس سے شہریوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
IQAir کی تازہ ترین رپورٹ میں لاہور کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے، جہاں فضائی ذرات (PM2.5) کی مقدار تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اس صورتحال کے باعث سانس کی بیماریاں، دل کے امراض، آنکھوں میں جلن اور گلے کی خرابی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک اس مضر فضائی معیار میں رہنا بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
فضائی آلودگی کی اس سنگین صورتحال کی وجوہات میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا، اینٹوں کے بھٹے اور شہروں میں بڑھتی ہوئی تعمیرات شامل ہیں۔ حکومت پنجاب نے اگرچہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی رفتار اور وسعت موجودہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔ شہریوں اور ماحولیاتی تنظیموں کی جانب سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اور دیرپا حکمت عملی اپنائے۔
اس صورتحال کا نہ صرف انسانی صحت پر منفی اثر پڑ رہا ہے بلکہ یہ ماحولیاتی نظام اور معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو فضائی آلودگی کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جس سے ملک کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام متعلقہ ادارے، صنعتیں اور شہری اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مشترکہ طور پر اقدامات کریں تاکہ وسطی پنجاب کے باسیوں کو صاف اور صحت مند فضا میسر آ سکے۔

