وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں جیو نیوز کے پروگرام “کیپٹل ٹاک” میں اپنے استعفے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ پروگرام کے میزبان کی جانب سے بارہا اصرار کے باوجود، وزیر صحت نے اس حساس معاملے پر کوئی براہ راست تبصرہ کرنے سے احتراز کیا۔
یہ سوالات اس وقت سامنے آئے جب ملک میں سیاسی حلقوں میں مصطفیٰ کمال کے ممکنہ استعفے کے حوالے سے چہ مگوئیاں جاری تھیں۔ ذرائع کے مطابق، وزیر موصوف کے حکومتی پالیسیوں یا پارٹی کے اندرونی معاملات پر تحفظات کی خبریں گردش کر رہی تھیں، جس کے باعث ان کے عہدے سے علیحدگی کے امکانات پر بحث زور پکڑ گئی تھی۔ تاہم، پروگرام کے دوران جب انہیں اس بارے میں وضاحت دینے کا موقع ملا تو انہوں نے موضوع بدل دیا اور دیگر حکومتی اقدامات پر بات کرنا شروع کر دی۔
وزیر صحت کے اس طرز عمل نے سیاسی مبصرین اور عوام میں مزید قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ ان کے استعفے کے سوال پر خاموشی یا گریز کو مختلف انداز میں دیکھا جا رہا ہے، کچھ حلقے اسے ان کی عدم دلچسپی جبکہ کچھ اسے مستقبل کے کسی بڑے فیصلے کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ فی الحال، مصطفیٰ کمال کی جانب سے اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے، اور یہ معاملہ اب بھی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔



