امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک اہم پالیسی تبدیلی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سرکاری امدادی پروگراموں پر انحصار کرنے والے تارکین وطن کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس نئے قانون کا مقصد ایسے افراد کو امریکہ میں مستقل رہائش کا حق دینے سے روکنا ہے جو عوامی فلاحی اسکیموں سے مستفید ہوتے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں تارکین وطن کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایسے پروگراموں کا استعمال کرنے سے روکا جا سکے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے غریب اور کم آمدنی والے تارکین وطن سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جو خوراک، رہائش یا طبی امداد جیسی سرکاری سہولیات پر انحصار کرتے ہیں۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی تارکین وطن کو خود کفیل بننے کی ترغیب دے گی اور امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرے گی۔ تاہم، امیگریشن حقوق کے علمبرداروں نے اس فیصلے کو غیر انسانی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے تارکین وطن میں خوف و ہراس پھیلے گا اور وہ ضروری امداد حاصل کرنے سے کترائیں گے، جس سے ان کی صحت اور فلاح و بہبود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔




