امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ کشیدگی اور اختلافات کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، جن پر سیاسی تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان افواہوں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو سخت الفاظ کہے یا ان کی سرزنش کی، جس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں دراڑ پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خبریں محض ‘حکمت عملی کے تحت لیک کی گئی معلومات’ ہو سکتی ہیں جن کا مقصد کسی خاص ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ان دانستہ طور پر افشا کی گئی خبروں کا بنیادی مقصد عوامی تاثرات کو متاثر کرنا اور رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں موڑنا ہے۔ یہ افواہیں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے معاملے پر سفارتی تعطل پایا جاتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ اقدامات یا حکمت عملی پر جاری بحث میں رائے عامہ کو کسی خاص بیانیے کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی افواہیں اکثر بڑے سفارتی یا عسکری فیصلوں سے قبل فضا ہموار کرنے یا کسی خاص بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے، یہ ‘لیکس’ محض ایک سیاسی چال ہو سکتی ہیں تاکہ ایران کے حوالے سے مستقبل کی پالیسیوں پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کو منظم کیا جا سکے۔ لہٰذا، ان افواہوں کو محض سطحی اختلافات کے بجائے گہری سفارتی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جو خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔




