سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک کنونشن تقریر کے دوران ایک اہم تجویز پیش کی ہے جس کے تحت اگر ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہر بالغ امریکی کو 5000 ڈالر کا ‘ٹرمپ ڈیویڈنڈ’ دیا جائے گا۔ یہ تجویز وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کو متوجہ کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یہ تجویز، جسے ‘ٹرمپ ڈیویڈنڈ’ کا نام دیا گیا ہے، دراصل ایک مالی امداد ہے جو وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی کامیابی کی صورت میں امریکی شہریوں کو براہ راست فراہم کی جائے گی۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی اور معاشی چیلنجز پر بحث جاری ہے اور سیاسی جماعتیں ووٹرز کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف معاشی پیکجز اور وعدوں کا اعلان کر رہی ہیں۔
تاہم، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دیگر کئی تجاویز کی طرح، یہ ‘ٹرمپ ڈیویڈنڈ’ کی تجویز بھی ممکنہ طور پر عملی جامہ نہ پہن سکے گی۔ ایسی بڑی مالیاتی اسکیموں کو کانگریس میں منظوری اور فنڈنگ کے حصول میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر سیاسی تقسیم برقرار رہتی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تجویز صرف ایک انتخابی نعرہ ثابت ہوتی ہے یا اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔



