صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے اسٹرائیکر فولارین بالوگن کی ورلڈ کپ میں ایک میچ کی معطلی پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر کھیلوں کے معاملات میں سیاسی مداخلت پر بحث جاری رہتی ہے۔
فولارین بالوگن کو ورلڈ کپ کے دوران ایک میچ کے لیے معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد امریکی ٹیم کی کارکردگی پر ممکنہ طور پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ مداخلت غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ عام طور پر سربراہان مملکت براہ راست کھیلوں کی تنظیموں کے انضباطی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے۔
فیفا کی جانب سے اس درخواست پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ تاہم، اس واقعے نے عالمی فٹ بال کے قوانین اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے، اور یہ بحث پھر سے شروع ہو گئی ہے کہ کھیلوں کی خودمختاری کو کس حد تک برقرار رکھا جانا چاہیے۔




