سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور بڑھتی ہوئی لڑائی کے تناظر میں ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ‘ٹرمپ آبنائے’ رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بحری جہازوں پر تقریباً روزانہ حملے ہو رہے ہیں اور ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ‘امریکہ کے کنٹرول’ میں ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر، اس پر کسی بھی ملک کا کنٹرول یا اس کے نام کی تبدیلی ایک عالمی تنازعہ کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بحری جہازوں پر حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں پہلے سے موجود عدم استحکام کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کے نام کی تبدیلی کی تجویز اور اس پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ، ایران کی جانب سے شدید ردعمل کو جنم دے سکتا ہے اور صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔






