امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ امریکہ کی فوجی مشقوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کی ایک اہم وجہ جنوبی کوریا کا ایران کے تنازع سے دور رہنا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا نے ایران کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ مکمل طور پر شامل نہ ہو کر ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا، جس کے بعد اب امریکہ اس کے ساتھ فوجی مشقوں کے حجم میں کمی لائے گا۔
صدر ٹرمپ نے فوجی مشقوں میں تخفیف کے اپنے فیصلے کی ایک اور وجہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے ‘بہت اچھے تعلقات’ کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تعلقات کی بدولت جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی میں کمی آئی ہے اور اس سے فوجی مشقوں کے حجم کو کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی پیش رفت کے پیش نظر مشترکہ فوجی مشقوں کو ‘مہنگا’ قرار دیتے ہوئے ان میں کمی کی تھی۔
امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان یہ مشترکہ فوجی مشقیں کئی دہائیوں سے جاری ہیں اور انہیں خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، شمالی کوریا انہیں ہمیشہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے اور ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے جزیرہ نما کوریا میں سفارتی کوششوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جنوبی کوریا کے کردار کو بھی سراہا گیا ہے۔
