سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران پر ایک شدید اور تباہ کن حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے کارروائی کی تو ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ریڈار سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ طویل اور پیچیدہ رہی ہے۔
ٹرمپ نے یہ ریمارکس اپنے دور صدارت کے دوران یا اس کے بعد بھی کئی مواقع پر دیے ہیں، جو عموماً سماجی میڈیا پلیٹ فارمز پر یا عوامی اجتماعات میں سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کا مقصد بظاہر ایران کو کسی بھی جارحانہ اقدام سے باز رکھنا اور امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ نے ایران پر سخت ترین پابندیاں عائد کی تھیں اور جوہری معاہدے سے بھی دستبرداری اختیار کر لی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تلخی آ گئی تھی۔
اس طرح کے بیانات علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ ان سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری ہمیشہ ایسے بیانات سے گریز کی اپیل کرتی ہے جو خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی محاذ آرائی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو متاثر کریں گے۔



