سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم دعویٰ کیا ہے جس کے مطابق ایک “امن بورڈ” نے فلسطینی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں اس پیش رفت کا اعلان کیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
اس اعلان کے بعد سے، فریقین، یعنی اسرائیل اور حماس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری تنازعے کے حل اور جنگ بندی کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی برادری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا واقعی ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے اور اس کی تفصیلات کیا ہیں۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے اسرائیل اور حماس کے سرکاری بیانات کا انتظار ضروری ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے مشرق وسطیٰ کی سیاست اور امن عمل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، جب تک متعلقہ فریقین کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آتی، صورتحال غیر یقینی رہے گی۔







