سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار پر تشویش برقرار ہے، اور مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، یہ معاہدہ کئی اہم پہلوؤں پر مشتمل ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب، تہران نے بھی ان مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا اہم مسئلہ اس ابتدائی ڈھانچے کا حصہ نہیں ہے جس پر فی الحال کام کیا جا رہا ہے۔ ایران کے حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ موقف مذاکرات کی پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتا ہے، کیونکہ مغربی طاقتیں ایران کے جوہری عزائم پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے اور اس کی کشادگی عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس آبنائے کی بندش یا اس میں رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے اس دعوے اور تہران کے ردعمل سے ایران کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور ممکنہ معاہدے کی نوعیت کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر دونوں فریقین کے موقف میں واضح فرق کے پیش نظر۔




