سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک پرائم ٹائم تقریر کے دوران 2020 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک بار پھر پرانے اور مسترد شدہ دعووں کو دہرایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چین نے ان انتخابات کا ڈیٹا چوری کیا تھا، جس سے انتخابی نتائج متاثر ہوئے۔
ٹرمپ کے یہ دعوے، جن میں انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت شامل ہے، متعدد تحقیقات اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے بے بنیاد ثابت ہو چکے ہیں۔ امریکی حکام اور انتخابی ماہرین نے بارہا ان نظریات کو مسترد کیا ہے، اور انہیں سازشی نظریات قرار دیا ہے۔ یہ الزامات 2020 کے انتخابات کے بعد سے ہی ٹرمپ کی جانب سے مسلسل لگائے جا رہے ہیں، لیکن ان کی حمایت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔
سابق صدر کا یہ اقدام، جس میں وہ چین پر انتخابی ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، ان کی آئندہ انتخابی مہم کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے جہاں وہ اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات کی حمایت میں اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا ہے، اور یہ نظریات پہلے ہی کئی بار غلط ثابت ہو چکے ہیں۔

