واشنگٹن: امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری کے حوالے سے ایک بار پھر متنازع بیانات جاری کیے ہیں، جن میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ابراہیمی معاہدے کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دینے کی تجاویز شامل ہیں۔ اپنے نئے ریمارکس میں، ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ابراہیمی معاہدے کے وسعت شدہ دائرہ کار میں شامل ہو سکتے ہیں، یہ بات انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران کہی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ‘اچھی طرح سے آگے بڑھ رہی ہے’، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اس کا نتیجہ یا تو ایک جامع معاہدہ ہوگا یا پھر کچھ بھی نہیں۔ ان کے یہ بیانات مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی اور اور سفارتی کوششوں کے بارے میں وسیع دعوؤں کا حصہ ہیں، جو اکثر تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ان کے مشرق وسطیٰ سے متعلق بیانات نے عالمی سطح پر بحث چھیڑی ہے۔
ابراہیمی معاہدے، جو کہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کیے گئے تھے، کو وسعت دینے کی تجویز ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو اس میں شامل کرنے کا خیال نہ صرف علاقائی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے بلکہ اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی طاقتیں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔



