سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری کی اجازت دینے کے ایک مجوزہ معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، جس سے کیف کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روس کے جاری حملوں کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی حمایت اور ہتھیاروں کی فراہمی پر انحصار کر رہا ہے۔
یوکرین کے صدر نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ ملک کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا سامنا ہے، جو روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے اس کا سب سے قابل اعتماد دفاعی نظام سمجھا جاتا ہے۔ ان میزائلوں کی کمی نے یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اسے روسی فضائی حملوں کے سامنے مزید کمزور بنا دیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب یوکرین روس کے جاری حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور اسے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فوری طور پر مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس معاہدے سے دستبرداری یوکرین کی دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک اہم رکاوٹ بن سکتی ہے اور اسے مزید کمزور کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مغربی ممالک کی جانب سے فوجی امداد کی فراہمی میں سست روی دیکھی جا رہی ہے۔

