ایپل کے طویل عرصے سے سی ای او ٹم کک نے 15 سال بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد کمپنی کی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ان کی جگہ جان ٹرنس کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹم کک اب ایگزیکٹو چیئرمین کا عہدہ سنبھالیں گے۔
یہ قیادت میں تبدیلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور ٹیکنالوجی کی صنعت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ ایپل جیسی بڑی کمپنی کے لیے اس وقت نئے سربراہ کا آنا مستقبل کی حکمت عملیوں اور اختراعات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر جب کمپنی مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹم کک نے اپنے 15 سالہ دور میں ایپل کو نئی بلندیوں پر پہنچایا اور کمپنی کو دنیا کی سب سے قیمتی اور بااثر کمپنیوں میں سے ایک بنایا۔ اب جان ٹرنس پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ایپل کو مصنوعی ذہانت کے اس نئے دور میں کس طرح آگے لے جاتے ہیں اور کمپنی کی جدت اور ٹیکنالوجی میں برتری کی روایت کو برقرار رکھتے ہیں۔





