برطانوی تجزیہ کار پال ایڈمز نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ اور اسرائیل کے تعلقات کئی دہائیوں کی اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ان کا یہ بیان لندن کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی پابندی کے اعلان اور اس پر اسرائیل کے شدید ردعمل کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی تعلقات میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔
لندن کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں کے ساتھ تجارتی پابندی کا فیصلہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کی حیثیت پر برطانیہ کے موقف کو واضح کرتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مالیاتی بلکہ علامتی طور پر بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ اسرائیل کی پالیسیوں پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسرائیل نے اس پابندی کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان مزید تلخی پیدا ہوئی ہے۔
پال ایڈمز کے مطابق، اسرائیل کا لندن کی تجارتی پابندی پر ردعمل اس لمحے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کتنے نازک موڑ پر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف برطانوی اسرائیلی تعلقات کے مستقبل کے لیے بلکہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر سفارتی حرکیات کے لیے بھی گہرے مضمرات رکھتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ کئی دہائیوں پر محیط مضبوط تعلقات کو مستقل طور پر متاثر کر سکتی ہے۔






