پاکستان ایک بار پھر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور تعلقات میں بہتری لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان کوششوں کو چین کی بھرپور تائید حاصل ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ برقرار ہے اور خطے میں استحکام کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
پاکستان کا امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا کردار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کئی بار کوششیں کی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ کوششیں اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہیں، کیونکہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان گہرے اختلافات اور عدم اعتماد اس عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
چین کی تائید اس سفارتی کوشش کو ایک نئی جہت دیتی ہے۔ چین، جو خود خطے میں ایک اہم کھلاڑی ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور پاکستان کے اس اقدام کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی حمایت سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو زیادہ وزن مل سکتا ہے، تاہم، دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور ان کے دیرینہ اختلافات کو حل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔ اس کوشش کی کامیابی خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔



