پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ سفارتی کوششیں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے کشیدگی جاری ہے، جس میں جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور دیگر سٹریٹجک معاملات شامل ہیں۔ پاکستان ماضی میں بھی دونوں فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ رہا ہے اور اس کی ثالثی کی کوششیں خطے میں استحکام لانے کی ایک اہم کوشش سمجھی جاتی ہیں۔ یہ اقدام عالمی برادری کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن و امان کی خواہاں ہے۔
اسی دوران، سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایران اپنی فوجی صنعتی بنیادوں کو توقع سے زیادہ تیزی سے دوبارہ تعمیر کر رہا ہے۔ اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور یہ ممکنہ طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اور عنصر کا اضافہ کر سکتی ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے خطے میں استحکام لانے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔



