اسلام آباد: پاکستان اور روس نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنے تعاون کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے اعلیٰ حکام خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کر رہے ہیں۔
نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے روس کے علاوہ تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان کے وزراء سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد بین الاقوامی جرائم، خصوصاً غیر قانونی نقل مکانی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف علاقائی سطح پر مربوط کوششوں کو مضبوط بنانا تھا۔ ان مذاکرات میں تمام شریک ممالک نے ان مسائل کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
ان ملاقاتوں میں سرحدوں پر نگرانی بڑھانے، معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط کو مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پاکستان کا یہ اقدام خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی جرائم کی روک تھام کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا عکاس ہے۔ توقع ہے کہ اس بڑھتے ہوئے تعاون سے غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوگی اور علاقائی سلامتی کو فروغ ملے گا۔





