اسلام آباد: پاکستان میں 2026 کے پہلے چھ مہینوں کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تشخیص میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں مثبت شرح گزشتہ سال کی اسی مدت کے 48.1 فیصد سے کم ہو کر اس سال 13.1 فیصد پر آگئی ہے۔
وزیر اعظم کی پولیو کے خاتمے کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے ڈان کو بتایا کہ یہ بہتری ایک نئی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس میں بیرونی آڈٹ، بہتر ٹیم کا انتخاب، تربیت میں اضافہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت شامل ہے۔
تاہم، ایک پولیو ماہر نے خبردار کیا کہ افغانستان سے بلا روک ٹوک سرحد پار نقل و حرکت ایک بڑا تشویشناک مسئلہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ کوئٹہ اور پشاور سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں قندھار اور ننگرہار سے منسلک پولیو وائرس کے اسٹرینز پائے گئے ہیں۔
پولیو کے خاتمے کے قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون 2026 کے دوران ملک بھر سے معمول کی پولیو وائرس نگرانی کے تحت 127 ماحولیاتی نمونے جمع کیے گئے۔ ان میں سے 117 نمونے منفی پائے گئے، جبکہ 10 نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
جنوری سے جون کے درمیان پائے جانے والے مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جو 2025 میں اسی عرصے کے دوران 369 سے کم ہو کر اس سال 100 رہ گئی ہے۔
NEOC کے مطابق، پنجاب میں کوئی مثبت ماحولیاتی نمونہ رپورٹ نہیں ہوا، جہاں جون میں جمع کیے گئے تمام 31 نمونے پولیو وائرس کے لیے منفی پائے گئے۔ سندھ میں، 29 میں سے 28 نمونے منفی تھے، جبکہ ایک نمونہ مثبت پایا گیا۔ خیبر پختونخوا میں 30 نمونے منفی ریکارڈ کیے گئے۔


