پاکستان کو اس وقت غذائی قلت کے ایک سنگین بحران کا سامنا ہے، جس کے اثرات خاص طور پر خواتین اور بچوں پر نمایاں ہیں۔ بچوں میں نشوونما کی کمی (stunting)، لاغری (wasting) اور وٹامنز و معدنیات کی قلت (micronutrient deficiencies) کی شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو متاثر کرتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی اور انسانی وسائل کی صلاحیت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ غذائی قلت کے باعث صحت کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور پیداواری صلاحیت میں کمی آتی ہے، جس سے غربت کے چکر کو توڑنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
موجودہ حکمت عملیاں اکثر اوپر سے نیچے کی جانب (top-down) اور بکھری ہوئی ہوتی ہیں، جو مقامی سیاق و سباق اور کمیونٹی کی شمولیت کو نظر انداز کرتی ہیں۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، کثیر الجہتی اور کمیونٹی کی قیادت میں نقطہ نظر اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس میں صحت، زراعت، تعلیم، سماجی تحفظ اور پانی و صفائی (WASH) جیسے شعبوں کو مربوط کرنا شامل ہے۔ مقامی سطح پر ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنا اور کمیونٹیز کو اپنی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بااختیار بنانا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانا، جو گھرانوں میں غذائیت کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔
مؤثر حل میں مقامی خوراک کے نظام کو فروغ دینا، گھروں میں کچن گارڈنز کی حوصلہ افزائی کرنا، اور غذائیت سے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے آگاہی مہمات چلانا شامل ہیں۔ حمل سے لے کر بچے کی دو سال کی عمر تک کے پہلے 1000 دنوں پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ یہ دور بچے کی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ برازیل کے “فوم زیرو” جیسے کامیاب عالمی ماڈلز سے سبق سیکھتے ہوئے، پاکستان کو سیاسی عزم، وسائل کی مناسب تقسیم اور احتساب کے مضبوط نظام کے ساتھ ایک قومی غذائی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ یہ اقدامات ہی پاکستان کو غذائی قلت کے بحران سے نکال کر ایک صحت مند اور خوشحال مستقبل کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔






