حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3.81 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 341.59 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حکومتی ٹیکسوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ڈیزل کی قیمتوں میں بھی رد و بدل کیا گیا ہے، تاہم اصل خبر میں صرف پیٹرول کا ذکر ہے۔ اس اضافے سے عام شہریوں پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے، جو پہلے ہی آسمان کو چھو رہی ہیں۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حکومت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی کو اس کی بنیادی وجوہات قرار دیتی ہے۔ تاہم، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملک میں پہلے سے موجود مہنگائی کی لہر کو مزید تقویت دے گا، جس سے عام آدمی کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوگی۔ یہ صورتحال ملک کی معاشی استحکام کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔


