اسلام آباد: پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 331 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اضافہ 24 جولائی سے نافذ العمل ہے اور اس سے ملک بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ایڈجسٹمنٹ کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں 4.40 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد فی لیٹر قیمت 327.12 روپے سے بڑھ کر 331.52 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح، ڈیزل کی قیمت بھی 378 روپے فی لیٹر پر پہنچ گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس اقدام سے عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی عالمی تیل کے بحران اور معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے سفری اخراجات کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر پڑے گا، جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔


