اسلام آباد – پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے تجارتی بنیادوں پر درآمد کی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد 5 سال کی عمر کی پابندی ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے سے پرانی غیر ملکی گاڑیوں کی درآمد کا راستہ کھل گیا ہے اور خریداروں کے لیے سستی اور بہتر سہولیات سے آراستہ گاڑیوں کے حصول کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
تاہم، آٹو ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جو صارفین فوری طور پر قیمتوں میں بڑی کمی کی توقع کر رہے ہیں، انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان ماہرین کے مطابق، بھاری درآمدی ڈیوٹیز اور دیگر اضافی اخراجات کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔
حکومت کا یہ اقدام بظاہر گاڑیوں کی دستیابی کو بہتر بنانے اور مقامی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے، لیکن درآمدی پالیسیوں اور ٹیکس ڈھانچے کا براہ راست اثر صارفین پر پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک درآمدی ڈیوٹیز میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی، پرانی گاڑیوں کی درآمد سے قیمتوں پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑے گا، بلکہ یہ صرف مارکیٹ میں گاڑیوں کے ماڈلز اور اقسام میں اضافہ کرے گا۔

