پاکستان نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کریں۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا طالبان کی ذمہ داری ہے، اور اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغان طالبان اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو نمایاں کیا ہے۔ ایلچی نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعلق خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔ اس رپورٹ میں ان گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جو افغانستان سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور عالمی برادری سے ان کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسی رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایلچی نے افغان لڑکیوں پر عائد تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان پابندیوں میں تعلیم اور کام سے روکنا شامل ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایلچی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کا احترام کریں۔




