اسلام آباد – پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3,000 ارب روپے کا دفاعی بجٹ پیش کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے اس اضافے کو ‘غیر یقینی علاقائی سلامتی کی صورتحال’ اور ملک کے دفاع کو یقینی بنانے کی ضرورت سے منسوب کیا۔
وزیر خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے پیش نظر دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ تاہم، دفاعی اخراجات میں اس بڑے اضافے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب ملک پہلے ہی شدید معاشی بحران کا شکار ہے، تو دفاع پر اتنا بڑا خرچ کرنا کتنا مناسب ہے؟
ناقدین کا کہنا ہے کہ دفاعی بجٹ میں اضافے سے صحت، تعلیم اور سماجی بہبود جیسے اہم شعبوں کے لیے دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک کی حقیقی سلامتی کا انحصار صرف فوجی طاقت پر نہیں بلکہ مضبوط معیشت اور خوشحال عوام پر بھی ہے۔ حکومت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر دفاعی تیاریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بحث آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


